فنا فی اللہ کی تہہ میں بقا کا راز مضمر ہے
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں
آتا
وہ
مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
جس حال میں جینا مشکل ہو
اس حال میں جینا مرضی ہے
ہمارے
جسم زخموں سے چور سہی
تم اپنے شکستہ تیر گنو
خودعدل
ترکش بولیں گے
یہ بازی کس نے ہاری ہے
یہ
بازی حق کی بازی ہے
یہ بازی تم ہی ہارو گے
گھر
گھر سے مجاہد نکلے گا
تم کتنے مجاہد مارو گے


0 Comments