Header Ads Widget

header ads

جس دیس سے ماؤں بہنوں کو اغیار اٹھا کر لے جائیں

 


جس دیس سے ماؤں بہنوں کو

اغیار اٹھا کر لے جائیں

جس دیس سے قاتل غنڈوں کو

اشراف چھڑا کر لے جائیں

جس دیس کی کورٹ کچہری میں

انصاف ٹکوں پر بکتا ہو

جس دیس کا منشی قاضی بھی

مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو

جس دیس کے چپے چپے پر

پولیس کے ناکے ہوتے ہوں

جس دیس کے مندر مسجد میں

ہر روز دھماکے ہوتے ہوں

جس دیس میں جاں کے رکھوالے

خود جانیں لیں معصوموں کی

جس دیس میں حاکم ظالم ہوں

سسکی نہ سنیں مجبوروں کی

جس دیس کے عادل بہرے ہوں

آہیں نہ سنیں معصوموں کی

 

جس دیس کی گلیوں کوچوں میں

ہر سمت فحاشی پھیلی ہو

جس دیس میں بنت حوا کی

چادر بھی داغ سے میلی ہو

جس دیس میں آٹے چینی کا

بحران فلک تک جا پہنچے

جس دیس میں بجلی پانی کا

فقدان حلق تک جا پہنچے

جس دیس کے ہر چوراہے پر

دو چار بھکاری پھرتے ہوں

جس دیس میں روز جہازوں سے

امدادی تھیلے گرتے ہوں

جس دیس میں غربت ماؤں سے

بچے نیلام کراتی ہو

جس دیس میں دولت شرفاء سے

نا جائز کام کراتی ہو

جس دیس کے عہدیداروں سے

عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں

 

جس دیس کے سادہ لوح انساں

وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں

اس دیس کے ہر اک لیڈر پر

سوال اٹھانا واجب ہے

اس دیس کے ہر اک حاکم کو

سولی پہ چڑھانا واجب ہے

Post a Comment

0 Comments