وہ سنگ
گراں جو حائل ہے رستے سے ہٹا کر دم لیں گے
ہم راہِ حق کے رہرو ہیں منزل پہ ہی جاکر دم لیں
گے
یہ بات عیاں ہے دُنیا پر ہم پھول بھی ہیں تلوار
بھی ہیں
یا بزمِ جہاں مہکائیں گے یا خوں میں نہا کر دم
لیں گے
ارباب
حکومت سے کہہ دو یہ عزم کیا ہے ہم سب نے
جو حق کے مقابل آئے گا ہم اس کو مٹا کر دم لیں گے
ہم ایک خدا کے قائل ہیں
پندار کا ہر بت توڑیں گے
ہم حق جا نشاں ہیں دنیا میں باطل کو مٹا کر دم لیں گے
ہم منظر حق کا ہر پہلو دنیا کو دکھا کر دم لیں
گے
ہم قال رسول قال اللہ دنیا
کو سنا کر دم لیں گے
جو سینہ دشمن چاک کرے باطل کو مٹا کر خاک کرے
وہ روز کا قصّہ پاک کرے ہم ایسی ضرب گا کر دم لیں گے
یہ فتنہ و شر کے پروردہ تخریب کے سامان لاک کرے
ہم سے جانے والے ہیں بزم سجا کر دم لیں گے
یہ امریکی دلال بھلا کیا خاک ڈرائیں گے ہم کو
ہم راہ وفا کے رہرو ہیں منزل پہ ہى جا کر دم لیں گے
اس دیس کے ذرے ذرے کو ہم اپنے خون سے سینچیں گے
اللہ کی قسم اس دھرتی کو گلزار بنا کر دم لیں گے
جس خون شہیداں سے اب تک گلرنگ ہوئی ہے یہ زمین
اس خون کے قطرے قطرے سے طوفان اٹھا کر دم لیں گے
سوچا ہے سعید اب کچھ بھی
ہو ہر حال میں اپنا حق لیں گے
عزت سے جئے تو جی لیں گے یا جام شہادت پی لیں گے


0 Comments