اٹھ جاگ مسلماں ہوش میں
اٹھ جاگ مسلماں ہوش میں
تعمیر خلافت پیدا کر
کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے
اب ایک جماعت کو پیدا کر
کر تو بھی ترقی دنیا میں
اسباب تجارت پیدا کر
قارون کی دولت ٹھکرا دے
عثمان کی دولت پیدا کر
اسلام کا دم تو بھرتا ہے
کفار سے پھر کیوں ڈرتا ہے
یا تو اسلام کا نام نہ لے
یا شوق شھادت پیدا کر
اور دل سے یہ تو کہتا آ
گھبراۓ ناں
حالات بدلنے والے ہیں
جو کانٹے بن کر آۓ
وہ لمحے ٹلنے والے ہیں
مظلوموں کی آھوں نے
شعلوں کی ادائیں پہنی ہیں
یہ جال قفس صیادوں کے
سب گلنے سڑنے والے ہیں
ہمت ہی نہیں طوفانوں میں
جزبوں کو ہمارے چیر سکے
یہ جتنا ہم سے الجھیں گے
ھم اور مچلنے والے ہیں


0 Comments