قسم اس وقت کی
صدر
والا قدر اور حاضرین والا
مجھے آج اس ایوان علم و دانش میں اس
موضوع پر اظہار خیال کرنا ہے "قسم اس وقت کی" جناب والا قسم کا تعلق
انسان کے ضمیر اور ایمان سے ہے ۔جب اس کے ایمان پر کڑا وقت آجاتا ہے تو وہ قسم
کھاتا ہے کبھی خدائے واحد کی عظمت کی، کبھی شان رسالت کی ، کبھی شہداء اسلام کے
لہو کی، کبھی غازیان سربکف کی اور کبھی اس وقت کی جب حق اور باطل کے معرکہ میں جان
و تن کے نذرانے پیش کرنے پڑتے تھے اور قسم اس وقت کی جب اپنے ہی خون میں غسل کرکے
اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا تھا
یہ عشق نہیں
آسان بس اتنا سمجھ لیجیئے
آگ کا دریا
ہے اور ڈوب کے جانا ہے
جناب والا
آج کا محب وطن پاکستانی اور مرد مومن
قسم کھاتا ہے کبھی اس دور کی جب سیدنا بلال عرب کے تپتے صحرا میں کوڑے کھا کر محبت
خدا کا اعلان کررہے تھے کبھی قسم کھاتا ہے اس دور کی جب میدان کربلا میں حسینیت
محض عظمت اسلام کے لئے شہادت نوش کرتی ہے۔کبھی اس دور کی جب حضرت خالد بن ولید قیصر
و کسریٰ کے مقدر کو مٹی میں ملا رہے تھے۔ کبھی اس دور کی جناب طارق بن زیاد سپین
کے ساحل پر قدم رکھ رہا تھا اور پھر اس دور کی جب صلاح الدین ایوبی یورپ اور ایشیا
کے لاکھوں صلیبی جنگجوؤں سے ٹکرا کر فتح کی بشارت لکھ رہا تھا جن کا تصور
مسلمان کے سینے کو ایمان کی حرارت سے سرگرم کردیتا ہے
قسم کس عہد
کی کھاؤں قسم کس وقت کی کھاؤں
کہ ہر ایک
دور مجھ کو شوکت ایمان لگتا ہے
قسم کھانے
کو جب ماضی کی راہوں پہ چلتا ہوں
تو ہر اک
وقت مجھ کو میری پہچان لگتا ہے
مسلمانو! پاکستان میرے لیے حرم ہے یہاں کا ذرہ ذرہ میرے لیے
جان ارم ہے مجھے اس کے ماضی حال اور مستقبل سے پیار ہے اس وقت جنت پاکستان باطل
قوتوں کے نرغے میں ہے اور جناب والا پاکستان کی حقیقی پہچان کے لیے مجھے قسم
ہے اس وقت کی جب پاکستان کی جنگ لڑی جا رہی تھی جب بنگال سے لے کر خیبر تک فرزندان
اسلام میدان عمل میں نکل آئے تھے ۔ قسم ہے اس وقت کی جب طلبہ و طالبات نے
اپنے سینے دشمن کی سنگینوں کے سامنے پیش کر دیے تھے جب طلبہ تعلیمی درسگاہوں سے
نکل کر کے ایک ایک شہراورگاؤں گاوں میں پھیل گئے تھے جب یہی طلبہ سیسہ پلائی ہوئی
دیوار بن گئے تھے کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح نے طلبہ کو اپنا ہراول دستہ قرار
دیا تھا
صدر
محترم
مجھے
اس وقت کے ایک لمحے کی قسم ہے جب مسلمان شہدا کے لیے موت بچوں کا کھیل بن گئی تھی
جب لاہور میں موت کا کھیل جاری تھا
قسم اس وقت
کی جب وقت ہم کو آزماتا ہے
جوانوں کی
زباں پر نعرہ تکبیر آتا ہے
جناب
والا
وقت
نے ہمیں آزمایا اور خوب خوب آزمایا مگر ہم ہر آزمائش میں سرخرو رہے اس وقت کی قسم
کیوں نہ کھاؤں۔
ایک
طالبہ ایک مجاہدہ سید النساء حضرت فاطمہ طلبہ کا ہجوم اس کی حفاظت کر رہا تھا وہ
پنجاب سیکرٹریٹ کی سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔ انگریزوں کی بندوقوں نے بارود اگلا آزادی
پسندوں کے سینے چھلنی کر دیے مگر فاطمہ زہرا آگے بڑھتی گئی ایسے لگا وقت تھم گیا
اس نے یونین چیک اتارا اور تار تار کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا ۔ہر انسان
پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا۔ ایمان
کی آنکھ سے دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں
میں بہنے والا ہر آنسو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہوا محسوس ہوتا ہےتحریک
آزادی کے ہر دن ہر گھڑی ہر لمحہ اور ہر آن کی قسم ہے۔ اس وقت کی قسم کے قافلے سب
کچھ لٹا کر پاکستان آ رہے تھے مگر اس کے دل مطمئن تھے آنکھیں روشن تھیں کہ انہوں
نے سب کچھ ہار کر کر پاکستان کی جنگ جیت لی ہے۔
جناب
والا !
مجھے
قسم ہے اس وقت کی جب ہزاروں افراد پر مشتمل مسلمان مہاجرین کا ایک قافلہ پاکستان کی
جانب چلا اور سکھوں نے قتل عام کیا کیا بچوں کو کرپانوں کی نوک پر اچھالا گیا مسلمانوں
کے خون سے ہولی کھیلی گئی 10000 میں سے صرف چار سو سے زندہ بچےزخمی حال بھوکے پیاسے
ان میں ایک عورت بھی تھی جو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہی تھی پاکستان
ابھی دس میل دور تھا اس کی گود میں کھیلتا ہوا بچہ بھوک سے مر گیا سفر کرتی
رہی جب وہ پاکستان کے سرحد پر پہنچی یہ ننھی سی قبر کھود کر بچے کو دفن کر دیا اس
پر کھڑے ہوکر پاکستان کے پرچم کو سلام کرتے ہوئے کہا
ہاں
میرے بیٹے تجھے پاکستان مبارک ۔مبارک ہو تم کو غلام ہندوستان میں پیدا کیا اور میں
تجھے آزاد پاکستان میں دفن کر رہی ہوں۔
جناب
والا
میں
نے جس وقت کی قسم کھائی ہے اس نے مجھے اسلام اور پاکستان سے محبت سکھائی ہے جسے
عشق کا جذبہ عطا کیا گیا آج اگر ہم پاکستان کو سربلند دیکھنا چاہتے ہیں تو اس دور
کو یاد رکھنا ہو گا جس نے ہمیں پاکستان کی خاطر مرنا اور جینا سکھایا تھا اس وقت کی
ہر بات کو پیش نظر رکھنا ہوگا آج محمد علی جناح نہیں مگر ان کے فرمودات ستاروں کی
صورت میں چمک رہے ہیں
جناب
والی
آج
تمام باطل قوتیں ہمیں للکار رہی ہیں اس کی ایمان آفریں وقت کی قسم کھا کر عہد کرتا
ہوں آپ بھی اس عہد میں میرے ساتھ شامل ہو
قسم ہے ہمیں
اپنے تازہ لہو کی
قسم زندگی کی
قسم آبرو کی
وطن پر کبھی
آنچ آنے نہ دیں گے
کسی کو گھر
اپنا جلانے نہ دیں گے


0 Comments