میں نہیں جانتا میں نہیں مانتا
جناب
والا!
ایک
ابدی صداقت ہے کہ انسان سچائے کا پرستار رہا ہے ہے وہ جھوٹ سے نفرت کرتا ہے منافقت
کے پردے چاک کرنا اس کی فطرت ہے ہے لہذا جب بھی کہیں سے وقت کے فرعون کی صدائیں
غرور ابھرتی ہے اور حق و صداقت کو مٹانے کے لیے ظلم و تشدد کا بازار گرم ہوتا ہے اس
کا ضمیر ریور دل کا ترجمان بن کر پکارتا ہے کہ آتشِ نمرود کی خدائی کا دعوی کرنے
والے فرعون اور عصر حاضر کے چھوٹے لات اور منات سنو تمہاری منافقت اور ریاکاری کو
ظلم و تشدد کو نہیں مانتا میں نہیں جانتا کتا صدر ذی وقار جب کسی فرعون نے سر
ابھارا موسی علیہ السلام کا نعرہ ایمانی
سر بلند ہوا جب کسی ہلاکو اور چنگیز نے انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کیے تو
جواب میں کلمہ حق سرور سر بلند ہوا اور جب کسی ذریعے اسلام کو کاٹنے کی کوشش کی تو
امام حسین رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کی منافقت اور جھوٹ کا پردہ چاک کرنے کے لیے
میدان کربلا میں آگئے اور اس شان سے انہوں نے اپنے اور اپنے خاندان کے لہو کا
نذرانہ پیش کیا کہ وہی بے برگ و بار شجر اسلام پھر سے بہار جاوداں کا نمونہ بن گیا
ستیزہ کار
رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفی
سے شرار بو لہبی
حق
اور باطل کی آویزش ازل سے رہی ہے اقبال کے لفظوں میں معزز حاضرین باطل اور کفر کے
خلاف پر جانے والے خوف ہوتے سے نہیں ڈرتے ہیں ان کے لیے اس نے عطا ہوتی ہے یا نہیں
آتا ہے ان کے سامنے حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول مبارک ہوتا ہے سب سے
بڑا جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے کہ وہ مردان حق حق و صداقت کی ہر
سال حکومت کرنے ہوتے ہیں ہیں ان کی آزمائش ان کا راستہ نہیں روک سکتیں مگر حق کے
لئے اپنے سر ہتھیلیوں پر سجا کر اس عزم کے ساتھ میدان عمل میں آتے ہیں ہیں سر کٹانے
کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے جناب والا اگر
ظلم و جبر کے خلاف بغاوت کا جزبہ نہ ہوتا تو الحق طرف جنگل کا قانون ہوتا ہوتا ہر
طرف فرعون نمرود شداد الجید جیسے حکمرانوں کی شاہ نظر آتی ہے سر کبھی نمبر کس طرح
کو کبھی نہ کبھی موت نہ آتی لیکن قدرت کا تقاضہ تو میں چراغ روشن کرنا ہے ہے ہے
خدا ہو کے ظلم کو پارہ پارہ کرنا ہے اس لئے ہر دور میں ایسے مردانہ بھرتے رہے جو
ہر فرعون کی جھوٹی خدائی کو ماننے اور پہچاننے سے انکار کر کے انصاف کا بول بالا
کرتے رہے ہے زمانہ کتنا ہی آگے کیوں نہ پڑ جائے کامیابی آخر سچائی اور انصاف کی ہوتی
ہے ہے
حقیقت ابدی
ہے مقام وشبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
جناب
والا !
زمانہ قدیم سے لے کر عہد جدید تک اور عرب کے ریگستانوں پر خاک و خون میں ہیں لوٹنے والے سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے لے کر حاضر کے غازی علم دین شہید رحمۃ اللہ علیہ آپ ہمیشہ ظلم اور جبر کے خلاف بغاوت کرنے والوں نے ہی اس حق و صداقت اور انصاف کو نئی زندگی دی ہے ہے ہے کوئی بھی آزادی کی تحریک ہو دین کے آیا کا جذبہ و منزل ایمان کی جانب سفر ہو مظلوموں کی غلامی کی زنجیریں کاٹنے کا مسئلہ ہو ہمیشہ عوام ان کا نعرہ مستانہ ایک کو صداقت کو نئی قوت عطا کرتا ہے تحریک پاکستان پر نگاہ دوڑائیں مجاہدین راہ را آزادی میں آعظم طلبہ و طالبات انگریز اور ہندو کے مستقبل سے ٹکرا گئے اور ان کے سامنے جھکنے سے انکار کرکے صبح آزادی کے اجالوں کو چاروں طرف پھیلا دیا جناب والا صادق کوئی بھی ہو حق نہیں بدلتے پاگل کتنے بھی گھر آئیں سورج نےب ہی سورج ممکن ہے کسی بھی ملک میں اقلیت کی تعریف سائے کتنے ہی گہری کیوں نہ ہو جمہوریت کے جوانوں نے ہر صورت سورۃ کرنا ہے انصاف ایک سمندر ہے جس میں رواں رہنا ہے سچ ایک سورج ہے جس نے ہمیشہ جگانا ہے تو ظلم و تشدد کا نام تاریخ کیا ہے جس کا دوسرا نام موت ہے ضرورت صرف ان حق پرستوں کی ہے جو وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہنے کا حوصلہ رکھتے ہوں
ایسے قانون
کو ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں
مانتا میں نہیں جانتا تا


0 Comments