یوم
دفاع پاکستان
صدر
گرامی قدر اور معزرین
آج
مجھے جس موضوع پر اظہار خیال کرنا ہے وہ ہے یوم دفاع پاکستان
جناب
والا
زندہ
قومیں اپنی تاریخی ایام کو یاد رکھتی ہیں یہی یوم دفاع پاکستان ہمیں افواج
پاکستان کی شجاعت کی یاد دلاتا ہے یہ دن عزم و ہمت کے فسانے سناتا ہے یہی دن
غیرت ایمانی کے آداب سیکھلاتا ہے لیکن پاکستان کی فتح نصرت کا پرچم لہراتا ہے جو
پاکستان کی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ
اے وطن نام
تیرا حق کی گواہی ٹھہرا
تیری عظمت
کا علم دہر میں لہراتے ہیں
تیری بنیادوں
میں ہے لاکھوں شہیدوں کا لہو
ہم تجھے گنج
دو عالم سے گراں پاتے ہیں
محترم حاضرین
آئیے
ہم اپنے ماضی کا ایک روشن ورق الٹتے ہیں چھے ستمبر 1965 کا سورج طلوع ہوا بھارت کی
بزدل فوج پاکستان پر حملہ کرتے ہیں ان کا خیال تھا کہ ملت پاک سوئی ہوئی ہے مگر یہاں
تو ہمارا مقدر جگمگا رہا تھا ہماری بہادر افواج دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار
بن گئی دشمن کے پاس افواج اور اسلحہ کی کثرت تھی مگر ہمارے پاس جذبہ ایمان تھا یہی
جذبہ اعلان کر رہا تھا کہ
کافر ہے تو
شمشیر پہ کرتا پے بھروسہ
مومن ہے تو
بے تیغ لڑتا ہے سپاہی
جناب
صدر
ہمارے
بےتپغ عوام بھی جرائت ایمانی کا مظاہرہ کرنے لگے اس وقت کے صدر پاکستان نے پکار کر
کہا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتے ہوئے دشمن پر جا پڑیں اور اسے بتا دیں
کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے اس للکار نے پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا
دیا افواج پاکستان تو جنگ لڑ رہی تھیں ان کے ساتھ مزدور، کسان ،شاعر ،مفتی ،ادیب
اور خطیب بھی شامل جہاد تھے۔ یہ دو قوموں کی نہیں بلکہ دو قومی نظریہ
کی جنگ تھی حق و باطل کا معرکہ تھا کفر و اسلام کی پنجہ آزمائ تھی اور پھر زمانے
نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے جرات اور دلیری
کی داستانیں دہرانے لگے ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت ایوبی رضی اللہ عنہ کے
فرزند فتح یاب ہونے لگے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے بھارت نے گھٹنے ٹیک دئیے اور فتح
عظیم پاکستان کا مقدر بن گئی ۔
جناب
والا یوم
دفاع
پاکستان ہر سال طلوع ہوتا ہے سوئے ہوئے مسلمان کو ہشیار کرتا ہے ہمیں باطل کے
عزائم سے خبردار کر تا ہے یہ دن ہمیں احساس دلاتا ہے کہ اگر ایمان سلامت ہو تو ہم
زمانے بھر سے ٹکرا سکتے ہیں اگر دلوں میں حرارت کے معنی موجود ہے تو ہر دور میں
باطل کے عزائم مٹی میں ملا سکتے ہیں
توحید کی
امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں
مٹانا نام و نشاں ہمارا
صدر
ذی وقار
آج
ہم ایٹمی قوت بن چکے ہیں ہماری رگوں میں کلمہ توحید کی امانت ہے پاکستان کو ہم نے
عالم اسلام کا قلعہ بنا نا ہے یوم دفاع پاکستان بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے
وطن سے محبت کریں اس کے ذروں کو ستاروں سے افضل سمجھیں اس کی فضاؤں کا احترام کریں
کہ ہم ان میں آزادی کا سانس لے رہے ہیں اس کے درودیوار کو اپنے خون سے زینت بخشی۔
جناب
والا
یوم
دفاع پاکستان کا پیغام ہے کہ ہم اسلامی نظریہ حیات کو الفاظ کے آئینے سے نکال کر
عمل کے سانچے میں ڈھالیں مصلح افواج ہماری جغرافیائی سرحدوں کی پاسبان ہے نظریاتی
سرحدوں کی پاسبانی کا فریضہ ہم نے انجام دینا ہے۔ آئیے ہم اس حقیقت کو یاد رکھیں
جنت سے کہیں
بڑھ کے حسین میرا وطن ہے
ہمسر ہے فلک
کی جو زمین میرا وطن ہے
حاضرین
کرام
ملت
پاک کی عظمت کو سلام کرتا ہوں میں اپنی شیردل افواج کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے
ان جذبات کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ
خون دل دے
کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن
کے تحفظ کی قسم کھائی ہے


0 Comments