Header Ads Widget

header ads

ہم تو شرمندہ ہیں اس دور کے انساں ہوکر

ہم تو شرمندہ ہیں اس دور کے انساں ہوکر

صدر والا مرتبت اور حاضرین والا قد ر

مجھے آج جس عنوان پر اظہار خیالکرنا ہے وہ ہے                                                                                                             ہم تو شرمندہ ہیں اس دور کے انسان ہو کر                                                                                                                         جناب والا !                  أج کا عنوان محض ایک تقریر کا موضوع نہیں یا الفاظ کی ساحری کا ایک بہانہ نہیں بلکہ یہ ایسی تلخ حقیقت ہے جس نے زمانے بھر کو دکھوں اور رنج و آلام کی صلیب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے ۔ بے روز گاری بے حال پریشانیوں کے آتش فشاں مصائب سے بھر پورعبد حال زوال انسانیت کا نوحہ پڑھتا ہوا مستقبل ایسے دور پرآشوب میں ہر صاحب نظر چیخ اٹھتا ہے ۔ یہ چیچ کبھی سینے میں آلام روزگار کے بوجھ تلے چھیتی ہے ۔ بالآخر ہمالہ سے بلند ہو کر اپنا اعلان کرتی نظر آتی ہے ۔ اب پر

لب پہ پابندی تو ہے احساس پہ پہرا تو ہے

پھر بھی اہل دل کو احوال بشر کہنا تو ہے

جھوٹ کیوں بولیں فروغ مصلحت کے نام پر

زندگی پیاری سہی لیکن ہمیں مرنا تو ہے

 ذی وقار ! ادوار اور زمانے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں ۔ کچھ ادوار اسے خوش بخت ہوتے ہیں کہ چاندنی بوئیں تو ستارے اگتے ہیں ۔مٹی کو چھو لو تو سونے کا روپ دھار لیتی ہے مگر آج کے انسان کو جو دور نصیب ہوا ہے وہ فقط زندگی بے بندگی شرمندگی سے عبارت ہے ۔ سکول کالج اور یونیورسٹیاں تو ہیں مگر روز گار نہیں ۔ مسجد میں اور عبادت گا ہیں تو ہیں مگر جبینیں سجدوں کے تقدس سے محروم ہیں ۔ جس رسول اعظم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اے کعبہ تو مجھے بہت پیارا ہے مگر ایک انسان کا لہو تجھ سے بھی زیادہ پیارا ہے ۔ اس رسول اعظم کے امتی بجائے اس کے کہ امن و سلامتی کی خیرات تقسیم کرتے وہ اغیار کے آلہ کار بن کر خودکش حملوں سے زندہ شہروں کو لاشوں کے ڈھیر بنا رہے ہیں ۔ سچائی اور صداقت نے مصلحت اور ریا کاری کا لبادہ اوڑھ لیا ہے ۔ بے حیائی کا وہ سیلاب جو بھی یورپ کی گلیوں تک محدود تھا اب ہمارے دروازہ پر دستک دے رہا ہے ۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے ۔

جس میں کچھ انسان کی توقیر کے احکام تھے

وہ شریعت معبدوں کے زیر سایہ سو گئی

آ گئیں بازار میں بکنے خدا کی عظمتیں

جی اٹھی ہیں خواہشیں اور مر گیا ہے آدی

محترم حاضرین ! المیہ تو یہ ہے کہ اس دور ذلت و خواری کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے نام پر اعلی ترین دور کہنے والے اندھے دانشور بھی مل جاتے ہیں ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اپنی جگہ مگر اصل دکھ تو یہ ہے کہ انسانیت اپنے مرکز وگور سے بھٹک چکی ہے ۔ طاغوتی طاقتوں نے مسلم قوتوں کی شان رفتہ کا بھرم پامال کر دیا ہے ۔ فلسطین ، عراق لبنان افغانستان کے بعد ایران اور پاکستان پر سرخ دائرے بنا دیئے گئے ۔ مگر افسوس ہم پھر بھی ایک نہیں ہوتے ۔

 جناب والا ! قیامت پر قیامت برپا ہوگئی کہ مغرب والوں نے شان رسالت م پر ہاتھ ڈال دیا ۔ آ قائے عالی مرتبت ﷺ کے خاکے بنا کر نمائشیں کی جارہی ہیں ۔ قرآن پر نئی فلم بن چکی ہے ۔ سر عام اسلام کو رسوا کیا جا رہا ہے ۔ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو قدموں تلے روند دیا گیا ہے مگر ہم پھر بھی ایک نہیں ہوتے ۔صویر اسرائیل بج چکا اور ہم عزرائیل کا انتہائی کرب اور بے بسی کے حالت میں انتظار کر رہے ہیں ۔

اک حشر سا برپا ہے ہر سمت قیامت ہے

اب جینے سے موت اچھی جینا بھی تو ذلت ہے

 والا قدرا میں عالم بے بسی میں خالق کوئین سے ایک بندہ ناچیز کی صورت سوال کرتا ہوں۔اے ہمیں پیدا کرنے والے کیا ہمارے مقدر میں یہی دور ذلت و خواری تھا ۔ ایسا اندھیرا ہے کہ ہم روشنی کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کھانے کی چیز میں انسان سے روٹھ گئیں ۔ امراض نے ہمیں موت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔ علم کا بڑا شہرہ ہے مگر دل بے سرور میں چاروں طرف بجلی کی روشنی ہے مگر آنکھیں بے نور ہیں اور اب تو بجلی بھی خواب بن گئی ۔ ظاہر اور باطن دونوں اندھیرے میں ڈوب گئے ۔ شیطان مسکرا رہا ہے مگر انسانیت فریاد کناں ہے ۔ شرافت کو کمزوری عزت کو مجبوری اور غیرت کو خاموشی کا نام دے دیا گیا ۔ اے علم و حکمت کی ڈگریاں ٹنوں کے حساب سے تقسیم کرنے والو ! خدارا میر کے دور کی عظمت لوٹا دو ۔ علامہ اقبال تو مدتوں پہلے کہہ گئے تھے ۔

یہ علم ،یہ حکمت ،یہ تدبر ،یہ حکومت

پیتے ہیں لہو  دیتے ہیں تعلیم مساوات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دنیا ہے تیری نظر روز مکافات

 


Post a Comment

0 Comments