ابھی
تو لوگ ترستے ہیں زندگی کیلئے
صدر والا قدر اور محترم حاضرین !
آج
کے علم آفر میں ماحول میں مجھے جس موضوع پر اظہار خیال کرتا ہے وہ ہے ۔
کہاں کا عشق
و محبت کہاں کا حسن و جمال
ابھی تو لوگ
ترستے ہیں زندگی کے لئے
جناب والا !
گہرے کرب اور درد کو اپنے اندر
سموئے ہوئے ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ جیسے صدیوں کی آفاقی سچائی نے اس شعر کا لبادہ
اوڑ ھ لیا ہو ۔ مال انگیز ساعتوں نے مستقل طور پر ہمارے عہد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
ہو ۔ زوال و ادبار نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے پنجے گاڑ دیئے ہوں ۔حسن وعشق قصہ ماضی
کے فسانے بن گئے ہیں اور بوالہوی و ریا کاری نے اپنا طلسم پھیلا دیا ہو ۔ گوشت
پوست بن گئی ہو ۔ ایسے دور میں ایک حساس دل پیچ اٹھتا ہے کہ
ہونٹ خاموش
ہیں اک مرگ کا سناٹا ہے
ہم تو
شرمندہ ہیں اس دور کے انسان ہو کر
والا
قدر!
ا
حسن و جمال کا جادو بے شک سر چڑھ کر بولتا ۔ لطافتوں سے دلوں کے گلستاں مہکتے اور
زندگی کے شگونے چکتے ہیں ۔ حسن قدرت کا انداز زیبائی ہے جلوۂ رعنائی ہے روح کا
قرار ہے علموں کی دھوپ میں جھلنے والوں کیلئے سایہ بہار ہے۔حسن بزم ہستی کا نکھار
ہے اور حسین حسین خواہشات کی قبولیت کا اظہار ہے ۔
حاضرین
کرام !
تاریخ ہستی شاہد ہے کہ حسن و جمال کی دلآویزیوں
سے عشق ومحبت زندگی پاتے ہیں اور پھر میشق و محبت کے جذبات بلاخیز ہیں جن سے امنگیں
جوان ہوتیں اور جذبات شوق ہمالہ کی چوٹیوں کو سر کرنے کیلئے آمادہ عمل ہوتے ہیں ۔
انہی سے مشکلات کو آسان اور ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ انہی کی
بدولت ویرانے شہروں میں اور بیاباں گلستانوں میں تبدیل ہوتے ہیں ۔ ای عشق بلاخیز
کا قافلہ وقت کی طنا ہیں تو ڑ کر ستاروں پر کمند میں ڈالنے کو سوچتا ہے ۔ ا کا
سورج ابھارتا ہے اور ایک پسماندہ قوم کو عالم اسلام کی غلامی کے بطن سے ایٹمی قوت
بنا دیتا ہے ۔
لیکن جناب صدر !
عشق
و محبت کی بلاخیزی اپنی جگہ حسن و جمال کی جاذبیت اپنی جگہ لیکن اصل حقیقت بدستور
کربناک کیفیت سے آگاہ کر رہی ہے کہ
ابھی تو لوگ
ترستے ہیں زندگی کے لئے
ہم
حسن و جمال اور عشق و محبت کا تذکرہ تو کرتے ہیں لیکن زندگی کے بحر بے کنار کی ایک
بوند کیلئے ترسنے والے انسانوں کی ناکام حسرتوں کو بھول جاتے ہیں ۔ یہ زندگی بھی
کوئی زندگی ہے جس میں انسانیت شرم سے منہ چھپا رہی ہے ۔ ہم نے جس نام نہاد زندگی کی
صلیب اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے کیا ہم نے کبھی اس صلیب کی کر بنا کی کو محسوس
کیا ہے ؟ زندگی انسانیت سے عبارت ہے لیکن انسانیت اس وقت دم توڑ دیتی ہے جب
انسانوں کی زندگی کے اسباب مفلسی کی گرد میں کم ہو جاتے ہیں ۔لرز لرز کر جینا موت
کے بھیا تک سایوں تلے جینا لکتے ہوۓ
جذبوں ویران آنکھوں اور مرگ ناگہانی اور فاقہ کشی کے پہاڑ تلے دب کر جینا بھی کوئی
زندگی ہے ؟
شاہراہیں اسی
واسطے بنی تھیں کیا
کہ ان پر دیس
کی جتا سسک سسک کر مرے
زمیں نے کیا
اس کارن اناج اگلا تھا
کہ نسل آدم
و حوا بلک بلک کے مرے
جناب
والا !
اس
ایوان سے نکل کر ذرا ان لوگوں تک جائے جنہیں عوام کہا جاتا ہے اور جنہوں نے فاقہ
کشی کے ہاتھوں موت پر زندگی کی تہت سجا رکھی ہے ۔ گھی آٹا چینی پٹرول غرضیکہ تمام
زندگی پرور چیز میں مہنگائی کے اس آسمان تک جا پہنچی ہیں جہاں تک غریب تو کجا اوسط
درجے کے وسائل رکھنے والے کی رسائی بھی ممکن نہیں ۔ کرایے اتنے زیادہ کہ پیدل بھی
چلیں تو چلا نہ جاۓ
اشیائے خوردنی نایاب یا اتنی مہنگی کہ جینا چاہیں تو جیا نہ جائے ۔ پیٹ خالی ہوں
تو راز داروں کے سامنے رونا چاہیں تو رویا نہ جاۓ
خالی پیٹ پھٹے پیرہن پاؤں اور سر سے لگے انسان جوفٹ پاتھ کی زینت بنے ہوۓ
ہیں ان کی بات کر میں تو کوئی سننے کو تیار نہیں ، لیکن کے بغیر رہا بھی نہ جائے ۔
کیا یہی وہ مستقبل ہے جس کے خواب ہم نے آنکھوں میں سجا رکھے تھے ۔ یہی زندگی ہے جس
کیلئے حسن و جمال کا خراج مانگ رہے تھے ۔
جناب صدر !
آج
مائیں اپنے بچے بیچ رہی ہیں ۔ خودکشی قومی نشان بنتی جا رہی ہے ۔ غریب خودسوزی کر
رہے ہیں ۔ کہتے ہیں جب بغداد لٹا تھا ۔ جب دمشق ویران ہوا تھا ۔ جب فلسطین ، عراق
اور بوسینیا میں لاشوں کے انبار ہے تھے تو اس وقت بھی مائیں اپنے جگر پاروں کو بیچ
کر زندگی کی خیرات مانگ رہی تھیں ۔ جنگ عظیم اول اور دوم کو دیکھئے تو انسانیت اپنی
قبر میں کھوتی نظر آتی ہے ۔ شیخ سعدی کے بقول جب انسان روٹی کے ایک لقمے کو ترس
رہا ہو تو وہ حسن و جمال کو دیکھے یا روٹی کو ؟ معلوم نہیں گذشتہ ادوار سے اب تک
ذلت و خواری کے مظاہر میں کس کس نے اپنے آنسوؤں کو ساحر کی زباں دی ہوگی ۔
انسان کی قیمت
گرنے گئی اجناس کے بھاؤ چڑھنے لگے
چویال کی
رونق بڑھنے لگی بھرتی کے دفاتر پڑھنے لگے
دھول اڑنے
لگی بازاروں میں بھوک اگنے گئی کھلیانوں میں
ہر چیز
دکانوں سے اٹھ کر روپوش ہوئی تہہ خانوں میں
جناب
والا !
افلاس
زدہ انسانوں کے بل بیل بکے کھلیان کے جینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے کے سب سامان کے اگر ہمیں زندہ رہتا ہے تو آئیے ہم زندگی کا سراغ
لگا ئیں ۔ وہ زندگی جو اصحاب ثروت اور صاحبان اقتدار کے کاخ و ایوان کی زینت بنی
ہوئی ہے لیکن ہمارے مقدر میں تو سسکنا ہی ہے ۔ عصر حاضر نے ہمیں کیا کچھ نہیں دیا
؟ بی خود کش حملے ۔ مساجد مقابر اور مقدس درگاہوں کا لٹتا ہوا تقدس غربت و افلاس
کا آخری نقطۂ عروج ۔ اب تک موت ستی تھی ۔ لیکن زہر بھی نایاب ہو گیا تو جینا روز
محشر سے کم درد ناک نہ ہوگا ۔ ان سے پوچھو جو مر مر کے جیتے ہیں اس تمنا میں کہ شاید
کل ہی روز محشر بپا ہو جاۓ
۔ در تم ہمارے بہت سے انشور تو صر حاضر کو انسانیت کی معراج قرار دے رہے ہیں لیکن یہ
کیسی معراج ہے کہ چاروں طرف سنکیاں ہیں آہیں ہیں نالہ و فریاد ہے غربت و افلاس کے
پھنکارتے ہوئے عفریت ہیں ۔ بدحالی بے کاری قتل و غارت اور استبدادی طاقتوں کا ہماری
مقدس سرحدوں پر دستک کا خوف ہے ۔ ہم نے تو لوگوں کو مرگ ناگہانی دینے کے بہانے جنت
کے ٹکٹ فروخت کرنے شروع کر دیئے ۔ اغواء برائے تاوان سے خوفزدہ والدین نے بچوں کو
گھروں کے قید خانوں میں بند کر دیا ہے ۔
جناب
والا !
میں
ایسے دور پر آشوب میں خدا کی رحمت کے سہارے پھر سے زندگی کے خواب بنتا ہوں ۔ کاش
کوئی تو انسانیت کی سرفرازی کا پرچم اٹھا کے چلے ۔ کاش کوئی تو فلک بوس مجلات سے نیچے
اترے ۔ کوئی تو غربت بانٹتے ہوئے فٹ پاتھوں اور نان جویں کے ایک ٹکڑے کیلئے
انسانوں کی جھگیوں کی طرف خلوص و محبت کی نظر سے دیکھے ۔ اصحاب سیاست میں کوئی تو
ایسا ہو جو ہمیں معیشت کی ترقی کی محض خوشخبری ہی نہ سنائے بلکہ غریبوں کے پیٹوں
پر بندھے ہوئے پتھر دیکھ کر شرم سے پانی پانی ہو جاۓ
۔
جناب
والا !
خدا
گواہ ہے کہ اگر صاحبان اقتدار ایک دفعہ بھی اپنے ہاتھوں سے پھیلائی ہوئی مفلسی و
بدحالی دیکھ کر شرمندگی سے دوچار ہو گئے تو پھر لوگ زندگی کیلئے نہیں ترسیں گے
بلکہ زندگی کی خوشحالیاں ان کے قدموں کی بلائیں لیں گی ۔ پھر ایک شہرے مستقبل کا
سورج طلوع ہوگا ۔ ایک نئی زندگی جگمگاہٹیں بکھیرے گی اور اس زندگی کا حسن عارضی یا
لمحاتی نہیں ہوگا بلکہ اس سے دوام کے سرچشمے پھوٹیں گے ۔ پھر یہی زندگی ہوگی جو
حسن و جمال سے عبارت ہوگی اور عشق و محبت کی رعنائیاں اجازت چاہوں گا کہ - میرے
وطن کے ذرے ذرے کوخورشید بداماں کر دیں گی ۔ میں
قصر مرمر کی بلندی سے نظر کیا آۓ
گا
خلق سے ملنا ہے تو پھر نیچے اترنا چاہیے
پر ابھر آئیں
یہاں تعمیر کی رعنائیاں
ان خوابوں میں
کچھ ایسا رنگ بھرنا چاہیے


0 Comments