اپنی
دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
صدر
ذی وقار اور حاضرین والا تبار !
علم
و حکمت کی روشنی میں بکھیرنے والے کے اس ایوان میں مجھے جس موضوع پر اظہار خیال کرنا
ہے وہ ہے ۔
اپنی دنیا آپ
پیدا کر اگر زندوں میں ہے۔
جناب صدر !
انسانی
زندگی جہد مسلسل اور جرات رندانہ سے عبارت ہے ۔ اس کا زار حیات میں وہی شخص آگے بڑھنے
کا حق رکھتا ہے جس کے عزائم میں پہاڑوں کی بلندی ہو سمندروں کی وسعت ہو آسانوں کی اٹھان
ہو اور شاہین کی صورت پلٹنے جھپٹنے کا حوصلہ ہو ۔ فرد ہو یا قوم ’ ’ شہری ہو یا دیہاتی
‘ ‘ فرد واحد ہو یا ریاست با وقار زندگی کی نوید انہی کو ملتی ہے جو اپنی دنیا آپ پیدا
کر نیکا حوصلہ رکھتے ہوں ۔اس لئے شاعر مشرق نے فرزندان قوم کو یہ جرات آزما پیغام دیا
کہ
اپنی دنیا آپ
پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے ضمیر
کن فکاں ہے ۔
زندگی
جناب والا !
زمانہ
گواہ ہے اس قوم نے سر بلندی حاصل کی جو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتی تھی
۔ قرآن کی ابدی گواہی ہے کہ خدا کسی قوم کی حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ
قوم اپنی حالت کو خود بدلنے کی جدوجہد نہ کرے اور یہ بھی قرآن کی گواہی ہے کہ انسان
کو وہی عطا ہوتا ہے جس کیلئے وہ محنت کرتا ہے ۔ اپنی دنیا آپ پیدا کر نیکا مفہوم یہ
ہے کہ انسان حوادث سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتا ہو زمانے کو تسخیر کرنے کی قوت رکھتا ہو
۔ وہ گفتار نہیں بلکہ کردار کا بھی غازی ہو علم کے ساتھ عمل کی تصویر بھی ہو اس کا
عزم آہن پہاڑوں کو چیر کر جوۓ
شیر نکالنے کا حوصلہ رکھتا ہو ۔ سچ پوچھئے تو یہی لوگ حاصل حیات ہوتے ہیں ۔ یہ اس اصل
حیات ہو ۔ عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں کہ
سر بیچ کر متاع
دل و جاں خریدنا
سودا ہے وہ کہ
جس میں خسارا کوئی نہیں ۔
حا
ضرین محترم !
قوموں
کی زندگی پر ایک نظر ڈالئے برپا ہونے والے انقلابات پر غور کیجئے تاریخ کے اوراق کا
مطالعہ کیجئے ہر جگہ مردان ہمت ہی حیات تازہ کی نوید سناتے نظر آتے ہیں۔عظمت اسلام
کے پہلے موڑ سے لے کر تحریک پاکستان دیکھئے ہر مقام پر اصحاب ہمت ہی ایک نیا زمان تخلیق
کرتے نظر آتے ہیں ۔
صدر
ذی وقار !
دور کیوں جائیں ۔ تحریک پاکستان کے ادوار پر ایک
نظر دوڑایئے ۔ برطانوی سامراجیت کا کہنا تھا کہ ہم یہاں ہزار برس حکومت کر یں گے ۔
برطانیہ کے سائے میں پرورش پانے والا ہندو کہہ رہا تھا کہ ہم مسلمانوں سے ہزار سال
کی غلامی کا انتقام لیں گے ۔ پنڈت نہرو پکار رہا تھا کہ ہندوستان میں فقط دوقو میں
بہتی ہیں ۔ ایک انگریز اور دوسری ہندو ۔ ایسے قیامت خیز منظر میں باباۓ
ملت محمد علی جناح کی ولولہ انگیز صدا انجری کہ تم دونوں جھوٹے ہو ۔ برطانوی سامراج
کو یہاں سے جاتا ہے اور ہندوستان میں تیسری قوم بھی بہتی ہے اور وہ ہے مسلمان ۔
صدرمحترم !
میرے قائد کی آواز میں غضب کی تاثیر تھی ۔ ان کے
عزم میں بلوار کی کاٹ تھی ۔ ان کی زبان تقدیر کی ترجمان تھی ۔ ان کا حوصلہ پتھروں کا
جگر پانی کر رہا تھا ۔ قائد اعظم کی آواز ہر مسلمان کے دل میں اتر گئی۔خاص طور پر لو
جوانان ملت نے اپنے قائد کی آواز پر اس طرح لبیک کہا کہ آزادی کا ہراول دستہ بن گئے
۔ اورشاہین صفت جوانوں نے فکر اقبال ﷺ سے روشنی لی ۔ قائد اعظم کی قیادت سے ۔ حوصلہ
لیا اور اس طرح آگے بڑھے کہ زمانے نے اپنا رخ بدل دیا ۔ باطل قوتوں نے ہتھیار ڈال دیئے
۔ تاریخ نے نیا ورق الٹ دیا اور ہندوستان کے نقشے پر پاکستان ابھر آیا ۔ تارا تعلیم و تدریس کی بلند چوٹیوں پر پڑھنے کا مرحلہ
ہو یا استحکام وہ پاکستان جس کو شوکت تعمیر کہتے ہیں جسے اقبال کے ہم خواب کی تعبیر
کہتے ہیں جوانان وطن کے عزم روشن کا یہ گہوارا اسے قائد کے فرمودات کی تاثیر کہتے ہیں
ت پاکستان کا معاملہ ۔ ہر جگہ اور ہر مقام پر یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ زمانہ
فقط اہمت اقوام کو سلام کرتا ہے ۔ پاکستان کا حصول ایک معجزہ تھا۔ اب اسے مضبوط سے
مضبوط تر بناتا ہے ۔ ہماری سرحدوں پر ہندو سامراجیت کا عفریت اب پھر پھنکار رہا ہے
۔ لاکھوں دیوتاؤں کو ماننے والے ہندو کو بڑی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے مگر ہماری
حقیقی قوت خدائے واحد پر ایمان ہے ۔ ہم باطل سے ہراساں نہیں ہم اپنی دنیا آپ پیدا کرنے
کا ہنر جانتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ
مٹایا قیصر و
کسری کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا زور
حیدر فقر بوذر صدق سلمان
جناب والا !
اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا ایک معجزہ اس وقت رونما
ہوا جب چاغی کی پہاڑیوں سے چھ ایٹم بموں نے پاکستان کے استحکام کی بنیاد رکھ دی اور
حسن ملت ڈاکٹر عبدالقدیر خاں تاریخ میں حیات دوام پا گئے ۔ ہاتھوں میں قوت دلوں میں
ایمان کی روشنی آنکھوں میں عشق رسول ﷺ کا جمال اور قدموں میںزمانے کو تسخیر کرنے کی
قوت ہوتو کامیابی ہمیشہ قدموں کو چوم سکتی ہے ۔
صدرمحترم
!
میں ارض پاکستان کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں ۔ میرے
جیسے کروڑوں فرزندان توحید ارض پاکستان کو سر بلند رکھنے کی قسم کھاتے ہیں ۔ ہم نے
رکنا نہیں بلکہ آگے بڑھتے رہنا ہے ۔ پاکستان کی ترقی کیلئے اس ملک کے استحکام کیلئے
جہالت کی تاریکیوں کو کافور کرنے کیلئے علم و حکمت کے نور کو عام کرنے کیلئے اور دنیا
کی ہرعظمت پاکستان کے نام سے وابستہ کرنے کیلئے میں ارض پاک کے حوالے سے اس دعا کے
ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ
خدا کرے کہ میری
ارض پاک پر اترے فصل گل
جسے اندیشہ زوال
نہ ہو وه ے خدا کر


0 Comments