بول
کہ لب آزاد ہیں تیرے
صدر گرامی قدر اور معزز
حاضر بین !
مجھے
آج جس موضوع کو تقریر کے گلدستے میں سجاتا ہے وہ ہے ۔ میں بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
۔ جناب والا ! جب چاروں طرف منافقت اور بے حسی کے اندھیرے چھانے لگیں ۔ جب انسانیت
حق و صداقت کی معمولی سی کرن کیلئے بھی ترسنے لگے ۔ جب مصلحت کا طاغوت عدل وانصاف کو
نگلنے لگے ۔ جب سچ بولنا جرم اور حق و صداقت کی پاسداری گناہ عظیم کھہرے ۔ جب انصاف
کو وقت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاۓ
اور حکومتی ایوانوں میں کذب و ریا کاری کی صدائے بازگشت سنائی دینے لگے تو پھر رنج
والم اور مایوسی کے صحرا میں کسی مردحق کی بانگ درا گونجتی ہے ۔ ے بول کہ لب آزاد ہیں
تیرے لب تیرے ہیں بول که چیخ اٹھتا ہے ۔ سه به دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
اور
معزز حاضر مین !
یہی
وہ لحہ ہوتا ہے جب مہر سکوت ٹوٹنے لگتی ہے ۔ زبانوں کے قتل کھلنے لگتے ہیں ۔ ہر طرف
سچائی اور حق و صداقت کا سورج چپکنے لگتا ہے اور اور پھر اذن گویائی پاتے ہی انصاف
کو ترسنے والا انسان -منزل شوق کے مسافر می نعرۂ مستانہ بلند کر دیتے ہیں کہ ے ہم پرورش
لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
والا قدر !
تاریخ
شاہد ہے کہ کوئی فرعون بھی ہمیشہ کیلئے لبوں کی آزادی سلب نہیں کر سکا وقت کا کوئی
بھی بدترین آمر سچائی کے سیل بے کراں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ سچائی نور ہے
سچائی خوشبو ہے اور نور اور خوشبو کی ہمہ گیری زمان و مکان کی پابند نہیں ہوتی ۔ انسانیت
کے نام لیواؤں نے ہر جگہ جھوٹ کے پرچم کو پاؤں تلے روندا ہے ۔ سچائی کو مصلوب کیا جاتا
ہے مگر یہ مر کر بھی زندہ رہتی ہے ۔ صحابہ کرام تو علم وعمل اور نور کے مینار تھے ان
کا کیا تذکرہ مجاہدین کو چہ صداقت نے تو قید و بند میں بھی نعرۂ حق بلند کیا دارورسن
کی آزمائش میں بھی صداۓ
حق بلند کی اپنے خون میں ڈوب کر بھی آزادی فکر کو سر بلند رکھا کہ یہ عشق نہیں ۔ آساں
بس اتنا سمجھ لیجئے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
صدر محترم !
شوکت اظہار کا حسن دیکھنا ہے تو کر بلا کے معرکہ
حق و باطل میں سیدنا حسین نی اور خاندان اہلبیت کے لبوں سے پھوٹنے والی اذان حق کو
سنئے جس نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے وقت کے نمرودوں اور فرعونوں کے غرور شاہی کو قدموں تلے
روند دیا ۔ منصور اور حلاج کے نعرۂ مستانہ میں اس صداۓ
پر جوش سنیے ۔۔ امام ابوحنیفہ ﷺ کے کوڑے کھا کر اور امام احمد بن حنبل ﷺ کے برف کی
سلوں پر ﷺﷺ ر لیٹ کر صداقت آفرین لبوں کی داستان سنیے ۔ ایک طرف زہر کا پیالہ پی کر
سقراط سچائی کے نور کو پھیلا رہا ہے تو دوسری طرف ہر معرکہ ایمان میں شوکت ایمان کا
علم تھا پلنے والے غازیوں شہیدوں اور مردان صداقت کا جذ بہ سرفروشی یہی پیغام دے رہا
ہے بنام حق وصداقت ۔
سرفروشی کی تمنا
اب ہمارے دل میں ہے
دیکھتے ہیں زور
کتنا بازوئے قاتل میں ہے
صدر
محترم !
جابر قوتیں حق پرستوں کی آواز کو دبانے کیلئے ہر
دور میں نئے نئے حربے آزماتی ہیں ۔ قوت گویائی سلب کر لی جاتی ہے ۔ قلم پر پہرے بٹھا
دیئے جاتے ہیں ۔ ذہن وفکر کو نام نہادثقافتی یلغار سے مرعوب کیا جا تا ہے ۔ ہر گلی
کو مورچہ بنا کر صلیب کھڑی کر دی جاتی ہے ۔ پچ کو جھوٹ اور حق گوئی کو حماقت کا نام
دینے کیلئے کاسہ لیسوں کی خدمات مستعار لی جاتی ہیں ۔ وقت کی منڈی میں بکنے والے قلم
کاروں اور مفتیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔
عمر
جناب والا !
کبھی
سیل نور بھی ڑکا ہے ۔ صحرائے حجاز سے روانہ ہونے والے کاروان حق کو کون روک سکا ہے
۔ زمانے گواہ ہیں صدیاں شاہد ہیں کہ اہل حق کے لب کھلتے ہی باطل کا فور ہو جا تا ہے
۔ جھوٹ اور مکر دریا کاری کے فلک بوس صداقتوں کونئی زندگی دے جاتا ہے ۔
!اےخاک
نشینو
جب تخت گراۓ
جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ کریں
گی زنجیر میں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم
کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
جناب
والا !
زمانے
کے جھوٹے خداؤں کی کوششیں اپنی جگہ لیوں کی آزادی ہمیشہ پیغام صداقت دیتی رہی ہے ۔
’ ’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘ ‘ کہہ کر شاعر نے عصر حاضر کو صراط حق پر چلتے رہنے
کی ترغیب دی ہے ۔ محض ایک جذباتی نعرہ یا فقط ایک مصرعہ نہیں ۔ بلکہ یہ تو وہ زندہ
حقیقت ہے جو ازل سے ابد تک کا حسن لئے ہوۓ
ہے ۔ یہ تو قرآن حکیم کا حسن ہے ۔ احادیث رسول کا مجموعہ ہے ۔ شہیدوں کے لہو کی سرخی
ہے ۔ غازیوں کی شجاعت کا بانکپن ہے ۔ کاروان صداقت کی برق رفتاری کی شہادت ہے ۔جو یہ
پیغام دے رہی ہے ۔
لکھتے رہے جنوں
کی مخایات خوں چکاں
ہر چند اس میں
ہاتھ ہمارے قلم ہرے


0 Comments